ٹکڑے ٹکڑے

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - پاش پاش، پرزے پرزے۔ "دامن چاک، سر پر خاک پیرہن پرزے پرزے اور ٹکڑے ٹکڑے۔"      ( ١٨٨٨ء، طلسم ہوش ربا، ١٠٤:٣ ) ٢ - (بیان یا مضمون وغیرہ) الگ الگ، علیحدہ علیحدہ۔"ٹکڑے ٹکڑے مضمون ہوتا تھا جس کا ہر ٹکڑا ایک مکمل خیال پیش کرتا تھا۔"1962ء، گنجینہ گوہر، 31

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ٹکڑا' کی جمع 'ٹکڑے' کی تکرار سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت اور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٧٧٢ء میں "دیوان فغان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پاش پاش، پرزے پرزے۔ "دامن چاک، سر پر خاک پیرہن پرزے پرزے اور ٹکڑے ٹکڑے۔"      ( ١٨٨٨ء، طلسم ہوش ربا، ١٠٤:٣ ) ٢ - (بیان یا مضمون وغیرہ) الگ الگ، علیحدہ علیحدہ۔"ٹکڑے ٹکڑے مضمون ہوتا تھا جس کا ہر ٹکڑا ایک مکمل خیال پیش کرتا تھا۔"1962ء، گنجینہ گوہر، 31